اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً سات بجے آتشزدگی سے 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفافی سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کے تیسری فلور پر لگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے۔
مزید پڑھیں
’کئی جانیں بچ سکتی تھیں‘، گل پلازہ آتشزدگی کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے متاثرین کے بیان
کینیا: لڑکیوں کے سکول کے ہوسٹل میں آتشزدگی سے کم از کم 15 طالبات ہلاک
دہلی کے رہائشی علاقے میں آتشزدگی سے کم از کم 18 افراد ہلاک، متعدد زخمی
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں نصب ایئر کنڈینشر کے اندر دھماکے کے نتیجے میں آگ لگی۔
انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس وارڈ میں بچوں کو آکسیجن پر رکھا جاتا ہے تووہاں موجود آکسیجن کے نظام کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جیسے ہی دھماکہ ہوا تو سٹاف مدد کے لیے باہر گیا لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ان کی معلومات کے مطابق صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا۔
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک

