لندن: انگلینڈ کی آخری وکٹ نہیں گر رہی تھی، گس ایٹکنسن اور جوش ٹنگ کی اچھی پارٹنر شپ بن گئی، البتہ یہ سب دیکھ کر مجھے خاصا اطمینان محسوس ہو رہا تھا، آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیسی بات کر رہے ہیں، دراصل اس کی وجہ پچ یا اپنی ٹیم کا غلط اندازہ لگانا تھا، مجھے محسوس ہوا کہ جہاں میزبان سائیڈ کا آخری پیئر ڈٹ گیا وہاں ہمارے بیٹرز کو بھی مشکل نہیں ہوگی لیکن میں غلط تھا، ہمیشہ کی طرح جب پاکستان کی بیٹنگ آئی تو اچانک پچ ایسی ہو گئی جہاں قدم جمانا مشکل تھا، بیٹرز نے مصباح اسٹائل ٹک ٹک موڈ اپنالیا، اس کا فائدے کے بجائے نقصان ہوا، رنز تو بنے نہیں مگر وکٹیں بدستور گرتی رہیں۔

دوسرے دن بھی لارڈز ایک بار پھر شائقین سے کھچا کچھ بھرا ہوا تھا، البتہ ان میں پاکستانیوں کی تعداد بہت کم تھی، جس وقت بابر اعظم آئوٹ ہوئے میں مایوسی کے عالم میں لفٹ سے نیچے چلا گیا، ہم صحافی تو ہیں لیکن بطور پاکستانی اپنی ٹیم کی خراب حالت دیکھ کر فرسٹریشن تو ہوتی ہی ہے، وہاں مجھے گرین شرٹ پہنے بعض شائق دکھائی دیے، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ یار ” کنگ بھائی آج تو کچھ کر لیتے،ہم ان کی بیٹنگ دیکھنے آئے اور وہ چلتے بنے“ مجھے لگا کہ شاید یہ لوگ واپس گھر جا رہے ہیں لیکن ایسا نہیں تھا،اتنی مہنگی ٹکٹ لی تھی، ایسے کیسے چلتے جاتے۔

گورے کرکٹ سے محبت کرتے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ٹیم کا کس سے میچ ہے، وہ صرف اچھا کھیل دیکھنے آتے ہیں، آج بھی ایسا ہی تھا، لنچ کے وقت میڈیا سینٹر میں رمیز راجہ سے علیک سلیک ہوئی، دوپہر کے وقت اچانک پھر روشنی کم ہونے لگی، فلڈ لائٹس آن ہوئیں لیکن تھوڑی دیر میں بارش شروع ہو گئی اور کھیل روک دیا گیا، یہاں کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگ چھتری ساتھ لے کر گھومتے ہیں، چند منٹ بعد ہی بارش رک گئی مگر پاکستانی وکٹیں گرنے کا سلسلہ نہ تھم سکا، انگلش کرکٹ بورڈ نے ایک اچھا سلسلہ شروع کیا ہے کہ صحافی دیگر اسٹینڈز میں موجود اپنے مہمانوں کو میڈیا سینٹر کا دورہ کروا سکتے ہیں،ان کو ایک عارضی کارڈ دیا جاتا ہے، مختلف شخصیات دوران میچ لارڈز کے منفرد ڈیزائن کے حامل میڈیا سینٹر کو دیکھ کر متاثر ہوتی ہیں۔